گزرتی شام کا منظر نظر پر بار ہوتا ہے

گزرتی شام کا منظر نظر پر بار ہوتا ہے
جدا دیوار سے جب سایۂ دیوار ہوتا ہے
گریباں چاک ہوتا ہے نہ دامن تار ہوتا ہے
بڑی شائستگی سے اب جنوں بیدار ہوتا ہے
کبھی ہو دھوپ خوشیوں کی، کبھی اشکوں کی بارش ہو
ہمیشہ ایک موسم ہو تو جی بیزار ہوتا ہے
بلندی تک پہنچنا بھی کوئی آساں نہیں لیکن
بلندی پر جمے رہنا بہت دشوار ہوتا ہے
مخاطب کوئی ہوتا ہے، کسی سے بات کرتے ہیں
نشانہ ہے کہیں پر اور کہیں پر وار ہوتا ہے
ہم اوروں کی طرح کُھل کر تو سب کچھ کہہ نہیں سکتے
مری جاں! شاعری کا بھی کوئی معیار ہوتا ہے
کٹی ہے عمر پتھریلی زمینوں پر سفر کرتے
بہکتے ہیں قدم جب راستہ ہموار ہوتا ہے
کبھی جو ٹوٹ جاؤ تو بکھر جانا ہی بہتر ہے
زبردستی جڑے رہنا بہت دشوار ہوتا ہے
مزا آتا ہے بازی جیت کر بھی ہار جانے میں
مقابل جب کوئی اپنا پرانا یار ہوتا ہے
ہو منزل بھی جدا، ذوق سفر بھی مختلف جس کا
پھر اس کا ہمسفر ہونا بڑا دشوار ہوتا ہے
کہاں تک سیؔف کو سمجھائیں دنیا داریاں آخر!
دِوانے کے لئے ہر مشورہ بیکار ہوتا ہے