نہ ہوں مجبوریاں تو دل جلانا کیا ضروری ہے

نہ ہوں مجبوریاں تو دل جلانا کیا ضروری ہے
بچھڑنے کے لئے کوئی بہانہ کیا ضروری ہے
محبت ایسی نعمت ہے جو ملتی ہے مقدر سے
محبت جس سے ہو پھر اس کو پانا کیا ضروری ہے
غنیمت جانیے محفل کے رہتے آگئے ہیں ہم
ہوئی تاخیر کیوں، اب یہ بتانا کیا ضروری ہے
بُھلا کر رنجشیں ساری میں اُن سے مل تو لیتا ہوں
مرا انداز بھی ہو والہانہ، کیا ضروری ہے
سیاست آگئی صحرا میں اب حُلیوں پہ مت جاؤ
جو دیوانہ لگے، وہ ہو دوانہ کیا ضروری ہے
مجھے کافی ہے ائے دل! ایک تیرا ہمنوا ہونا
مری تائید میں بولے زمانہ، کیا ضروری ہے
بالآخر چھوڑ دی ساری تگ و دو ہم نے دنیا کی
جسے کھونا ہی ٹھہرا، اس کو پانا کیا ضروری ہے
تماشا چل رہا ہے اور تماشائی بھی سب خوش ہیں
کہانی میں نیا اک موڑ لانا کیا ضروری ہے
نیا انداز الفت کا، نئی خوشیاں، نئے غم ہیں
غزل کا ہو وہی لہجہ پرانا کیا ضروری ہے
سلیقے اور بھی ہیں غم چھپانے کے جنابِ سؔیف
ضرورت بے ضرورت مسکرانا کیا ضروری ہے