ہمارے دم سے ہوئے پُربہار ویرانے

ہمارے دم سے ہوئے پُربہار ویرانے
سو شہر چھوڑ کر آنے لگے ہیں فرزانے
بس ایک بار محبت کا موڑ کاٹا تھا
پھر اُس کے بعد سبھی راستے تھے انجانے
مری شکست پہ رویا تو خیر کوئی نہیں
جو ہنس رہے تھے وہ چہرے تھے جانے پہچانے
خراج ساری نگاہوں سے کون مانگتا ہے
کوئی تو ہو جو ہماری نظر کو پہچانے
جو دشمنوں نے کیا اس کا ذکر ہی کیا ہے
مگر وہ دوست! اُنہیں کیا ہوا خدا جانے
ضرور اُس نے مرا نام لے لیا ہوگا
ذرا سی بات کے بنتے ہیں تھوڑی افسانے
وہ خوش مزاج سہی، لاکھ خوش گمان سہی
کبھی تو میری کسی بات کا برا مانے
ذرا سا وقت نے کیا ساتھ دے دیا اس کا
وہ چاہتا ہے کہ دنیا اسے خدا مانے
مذاقِ تشنہ کو سیراب کر نہ پائیں گے
ہمارے ظرف سے کم ہیں سخن کے پیمانے
فَضائے دشتِ سخن کو بنائے رکھنا سیؔف
تمہارے بعد بھی آئیں گے اور دیوانے