جن چراغوں میں روشنی کم ہے

جن چراغوں میں روشنی کم ہے
اُنھیں آندھی بھی دیکھتی کم ہے
دل سے پہلے بھی دوستی تو نہ تھی
ہاں! ترے بعد دشمنی کم ہے
عمر شاید طویل ہو لیکن
تجھ پہ مرنے کو زندگی کم ہے
یا تو اکتا گئی ہیں اب نظریں
یا نظاروں میں دلکشی کم ہے
ملنا جلنا سبھی سے ہے لیکن
ایسے ویسوں سے دوستی کم ہے
جس کی خاطر سجائی تھی محفل
آنے والوں میں اک وہی کم ہے
سچ تو یہ ہے کہ زندگی اور ہم
ساتھ رہتے ہیں، دوستی کم ہے
سانس لینا بھی اب تو فن ہے سیؔف
ہمیں اس فن کی آگہی کم ہے