ختم اب سارے محبت کے نشاں ہوتے ہیں

ختم اب سارے محبت کے نشاں ہوتے ہیں
کل جہاں گھر تھے وہاں آج مکاں ہوتے ہیں
تیرے آزار کو بھی پیار سمجھنے والے
ہم سے دیوانے زمانے میں کہاں ہوتے ہیں
ٹیس اٹھے تو ابھر آتے ہیں چہرے کتنے
داغِ دل ویسے تو بے نام و نشاں ہوتے ہیں
لطف، آرام، سکوں، راحتِ جاں، دل کا قرار
سبھی ہوتے ہیں وہاں آپ جہاں ہوتے ہیں
جن کے ہر خواب کو تعبیر میسر آ جائے
کیسے ہوتے ہیں وہ انسان، کہاں ہوتے ہیں!
دل پہ گزرے کوئی احساس تو ہوتی ہے غزل
اپنی مرضی سے بھلا شعر کہاں ہوتے ہیں
اب تو ہونٹوں پہ ترے نام کے آتے آتے
کتنے طوفان بپا زیرِ زباں ہوتے ہیں
سستی شہرت کے لیے فن کی جو توہین کریں
وہی تاریخ میں بے نام و نشاں ہوتے ہیں
آپ تک شعر کے سب رنگ پہنچتے ہیں مگر
درد الفاظ کے پردے میں نہاں ہوتے ہیں
تنگ ہوں دل تو کہاں نبھتے ہیں یارانے سیؔف
یہ سفینے تو سمندر میں رواں ہوتے ہیں