ہوئی جاتی ہے قصّوں اور افسانوں سے وابستہ

ہوئی جاتی ہے قصّوں اور افسانوں سے وابستہ
کبھی انسانیت رہتی تھی انسانوں سے وابستہ
اٹھائے پھر رہے تھے ناز سے بے فکر و بے پروا
رہا جب تک ہمارا سر ترے شانوں سے وابستہ
تذبذب میں رہے دل کی سنیں یا عقل کی مانیں
نہ دیوانوں میں شامل ہم نہ فرزانوں سے وابستہ
پشیماں بھی نہ ہوتے ہم ، پریشانی بھی کم ہوتی
اگر کرلیتے امیدوں کو امکانوں سے وابستہ
رہے جن پتھروں سے کھیلتے ، اُن سے ہی ڈرتے ہیں
کہ اب ہم ہو گئے ہیں آئینہ خانوں سے وابستہ
چلی آئے گی تہہ داری بھی معنی آفرینی بھی
کریں گے لفظ کو جب ہم کئی معنوں سے وابستہ
شبستانوں سے نکلو وقت جب آواز دے، ورنہ
کہیں نسلیں نہ کردی جائیں زندانوں سے وابستہ
رہی تاریخ‘ تو یہ حاشیوں پر بھی نہیں ہوں گے
جو ہیں اہل تعصب آج عنوانوں سے وابستہ