پھر ہے کوشش تجھے بھلانے کی

پھر ہے کوشش تجھے بھلانے کی
آگ کو آگ سے بجھانے کی
جب خموشی زبان بن جائے
کیا ضرورت ہے لب ہلانے کی
ہے یہ اظہارِ غم نہ ضبطِ خوشی
مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی
دشت جب سے ہوا ہے شہر زدہ
وحشتیں بڑھ گئیں دوانے کی
ہم سے ہی غم ترا سنبھل نہ سکا
کیا شکایت کریں زمانے کی
چھن گئیں آنکھیں پھر بھی ضد ہے ہمیں
زندگی سے نظر ملانے کی
فکرِ جاناں تجھے ٹھہر نا ہے
ہے ابھی فکر آب و دانے کی
یوں تو آئے گئے کئی موسم
رُت نہ بدلی درون خانے کی
ہم سے گر آشنائی تھی ہی نہیں
کیا وجہ تھی نظر چرانے کی
اس میں شامل ہے خاکسار بھی کیا؟
بات کرتے ہو جب زمانے کی