ہجوم شوق در دل سے شرمسار گیا

ہجومِ شوق درِ دل سے شرمسار گیا
نہال کرنے جو آیا تھا اشکبار گیا
اک اور شب مری ناصح کو جھیلنے میں گئی
فسردہ پھر مرے خوابوں کا قرض دار گیا
بساطِ زیست پہ اپنے تھے سب سیاہ و سفید
میں جیت کر بھی نہ جیتا ، تو پھر میں ہار گیا
نہ آنکھ نم ہوئی اب کے نہ زخم تازہ ہوئے
مری بلا سے اگر موسمِ بہار گیا
دھڑک رہا ہے یہ اب تو ہر ایک آہٹ پر
تھا دل پہ زُعم اب اس کا بھی اعتبار گیا
میں آنکھیں بند کروں پھر بھی تو دکھائی نہ دے!
تو کیا اب اپنا تصور سے اختیار گیا؟
جسے تو ڈھونڈتی آئی ہے زندگی وہ سؔیف
تری تلاش میں نکلا تھا، سوئے دار گیا