تو کیا وہ رنج وہ رنجش بھلا چکا ہوں میں

تو کیا وہ رنج وہ رنجش بھلا چکا ہوں مَیں
بڑے تپاک سے پھر ان سے مل رہا ہوں مَیں
جو لوگ خوش تھے بہت میرے لڑکھڑانے پر
اُنھیں بتاؤ کہ پھر سے سنبھل گیا ہوں میں
اِدھر یہ فکر کہ بولوں تو کھل نہ جائے بات
اُدھر یہ شور کہ خاموش ہو گیا ہوں میں
بدل گیا ہے زمانہ بھی، وقت بھی ، تم بھی
تو کیا عجب جو ذرا سا بدل گیا ہوں میں
خریدنا تو کجا کوئی دیکھتا بھی نہیں
متاعِ خواب لیے پھر بھی گھومتا ہوں میں
سمندر آج ترا ظرف آزمانا ہے
ذرا سی دیر کو پتوار رکھ رہا ہوں میں
زباں قلم نہیں ہوتی تو اور کیا ہوتا
جو بات سچ تھی سرِ عام کہہ گیا ہوں میں