شعورِ آگہی ہے اِبتلا میں

شعورِ آگہی ہے اِبتلا میں
یہی ہوتا ہے شاید ابتدا میں
سوالِ بندگی الجھا ہوا ہے
جواب اس کا ہے لیکن 'ہاں' یا 'نا' میں
مقدر کا لکھا مل تو رہا ہے
مگر کچھ اور ہے میری دعا میں
تھکا ماندا میں شاید لَوٹ جا تا
مگر اک طنز تھا اُس کی صدا میں
نبھاتا بھی اْسے کوئی تو کب تک
بہت سے نَقص تھے عہدِ وفا میں
غرورِ سادگی ہے اور میں ہوں
لگے پیوند ہیں جب سے قبا میں
اثر چارہ گری میں سیؔف کیا ہو
دْعا شامل نہیں ہے اب دوا میں