ہم جو ثابت قدم رہ گئے

ہم جو ثابت قدم رہ گئے
راہ کے پیچ و خم رہ گئے
مِٹ گئے وہ جو دیوار تھے
ہم تھے بنیاد، ہم رہ گئے
کعبۂ دل میں اے بت شکن!
کچھ ہوس کے صنم رہ گئے
حرمتِ حرف سر پر دھرے
تاجرانِ قلم رہ گئے
کرلیا میں نے صرفِ نظر
دوستوں کے بھرم رہ گئے
ہم سفر ہوگئے منتشر
راستے ہمقدم رہ گئے
چال سمجھے نہ جو وقت کی
وہ خدا کی قسم! رہ گئے
اب بھی موجود ہیں دیدہ ور
یہ الگ بات کم رہ گئے
کٹ گئے سر مگر ہاتھ میں
سر سے اونچے علَم رہ گئے
کامیابی کے ہر گام پر
دوست دو چار کم رہ گئے
دشمنانِ حرم کے حلیف
پاسبانِ حرم رہ گئے
سؔیف! اٹھانے کو نازِ غزل
ایک آپ, ایک ہم رہ گئے