جو بجھ گئیں اُنہی آنکھوں میں خواب پلتے ہیں

جو بجھ گئیں اُنہی آنکھوں میں خواب پلتے ہیں
جہاں کھنڈر ہوں خزانے وہیں نکلتے ہیں
ہم ایسے لوگ سرابوں سے کب بہلتے ہیں
دِکھا وہ خواب جو تعبیر میں بدلتے ہیں
جو غور کیجے تو رستوں کا فرق واضح ہو
اگرچہ ہم بھی زمانے کے ساتھ چلتے ہیں
انا کو جن کی اندھیروں سے ٹھیس لگتی ہے
وہی چَراغ مخالف ہوا میں جلتے ہیں
سفر کڑا ہے، مگر اے حیات! فکر نہ کر
قدم بڑھا کہ ترے ساتھ ہم بھی چلتے ہیں
بنے ہوئے ہیں طرف دار خوشبوؤں کے وہی
جو لوگ پھول کو پیروں تلے کچلتے ہیں
جدا رہیں تو جدائی کی وجہ پوچھیں گے
جو ہم ملیں تو وہی لوگ ہم سے جلتے ہیں
جہاں لگے کہ سبھی بند ہوگئیں راہیں
وہیں سے سؔیف نئے راستے نکلتے ہیں