جو عارضی ہوں سہارے تو لیجیے ہی نہیں

جو عارضی ہوں سہارے تو لیجیے ہی نہیں
جو صبح تک نہ جلیں وہ دیے، دیے ہی نہیں
نبھا رہے ہیں انہیں فرضِ منصبی کی طرح
جو عہد ہم نے کسی سے کبھی کیے ہی نہیں
یا اپنی جیب میں تریاق بھی رکھا کیجے
یا آستیں میں کوئی سانپ پالیے ہی نہیں
نہ جانے کب سے پریشاں کئے ہوئے ہیں انہیں
وہ کچھ سوال جو ہم نے ابھی کیے ہی نہیں
سرور و لذتِ غم اس سے پوچھتے کیا ہو
وہ جس نے ضبط کے آنسو کبھی پیے ہی نہیں
ہمارے دَور کا ہے یہ اصولِ ہمسفری
جو رہ گئے ہیں اُنہیں مڑ کے دیکھیے ہی نہیں
کبھی کسی کے لیے اور کبھی کسی کے لیے
ہم اپنے آپ کی خاطر کبھی جیے ہی نہیں
اذا کیے ہیں کئی بار ہم نے سود کے ساتھ
جو قرض تجھ سے ائے دنیا! کبھی لیے ہی نہیں
قبول کیجیے تعبیر کی حقیقت سیؔف!
یا اب کے بعد کبھی خواب دیکھیے ہی نہیں