یہ غزل کے کسی مصرعے میں نہیں آئیں گے

یہ غزل کے کسی مصرعے میں نہیں آئیں گے
دل کے آزار ہیں، لہجے میں نہیں آئیں گے
ریزہ ریزہ بھی جو ہوجائیں تمہارے ہی رہیں
ہم کسی اور کے حصے میں نہیں آئیں گے
ہوش اڑا دیتا ہے یوں بھی ترے ملنے کا خیال
تو جو مل جائے تو آپے میں نہیں آئیں گے
جو نگاہوں ہی نگاہوں میں ہوئے تھے اُن سے
وہ سخن سننے سنانے میں نہیں آئیں گے
یہ بھلا خاک اڑانے کا ہنر کیا جانیں
نئے مجنوں ہیں، خرابے میں نہیں آئیں گے
پیش کی جب اُنہیں دنیا تو غمِ دل بولے
یہ بہت کم ہے، ہم اِتنے میں نہیں آئیں گے
شاید آرائشِ دیوار میں کام آجائیں
خام پتھر ہیں یہ پاے میں نہیں آئیں گے
اب اگر سنگ برستے ہیں تو حیرت کیسی
پھول تو پھول کے بدلے میں نہیں آئیں گے
سخت جانی نے مری اتنا تھکایا ہے اُنہیں
حادثے اب مرے رستے میں نہیں آئیں گے
دھوپ کا قرض چکانے کو چلے ہیں ہم سیؔف
جلتے جل جائیں گے، سائے میں نہیں آئیں گے