تم کہ ہونے لگے ہو ثمرور بہت

تم کہ ہونے لگے ہو ثمرور بہت
یاد رکھنا کہ آئیں گے پتھر بہت
چارہ گر کی عنایت ہے ہم پر بہت
زخم تو ایک تھا، مارے نِشتر بہت
ہم پہ جو کچھ بھی گزری سو گزری مگر
زندگی خوش رہی ہم کو پاکر بہت
عمر لگتی ہے رشتوں کی تعمیر میں
اور ترکِ تعلق کو پل بھر بہت
تشنگی بھی ہے اپنی مزاج آشنا
گاہ میخانہ کم، گاہ ساغر بہت
پَل رہا ہوگا سینے میں طوفاں کوئی
پُرسکوں ہوگیا ہے سمندر بہت
بوجھ لگتے نہیں اُس کو اپنے ثمر
جُھک بھی جائے جو شاخِ ثمرور بہت
بے توازن تو ہوگا ہی نقشِ حیات
دائرہ ایک ہے اور محور بہت
گمرہی کے لیے ساری دنیا بھی کم
بندگی کے لیے ایک ہی در بہت
سر نہ گِن، سرفروشی کے جذبے کو دیکھ
ہیں ہزاروں کے آگے بہتّر بہت
وہ سراپا رہا ماورائے غزل
فکر و فن نے تراشے تو پیکر بہت
ٹوٹنا تھا سو ٹوٹا بکھر بھی گیا
سیؔف رکھتے تھے دل کو اُٹھا کر بہت