نہ آندھی سے کوئی خدشہ نہ اندیشہ ہے طوفاں سے

نہ آندھی سے کوئی خدشہ نہ اندیشہ ہے طوفاں سے
اگر خطرہ ہے گلشن کو تو ہے اپنے نگہباں سے
زمیں پر موت رقصاں ہے نواے زندگی چپ ہے
یہ منظر دیکھتا ہے آسماں بھی چشمِ حیراں سے
غرور و زعمِ باطل خاک میں کیسے ملاتے ہیں
سبق یہ سیکھنا ہوگا جہاں کو اہلِ ایراں سے
خزاں سرکش سہی لیکن اُسے اتنا سمجھنا ہے
ہمارا ربط باقی ہے ابھی فصلِ بہاراں سے
ابھی آنکھیں بھی کھولیں گے ابھی خود کو سمیٹیں گے
ذرا فرصت تو مل جائے ہمیں خوابِ پریشاں سے
سبھی مشکل سوالوں کے جواب ازبر کیے لیکن
سوال اُس مہرباں نے پوچھ ڈالے سارے آساں سے
اُدھر بازیگرانِ شعر نے محفل جما لی ہے
اِدھر بیٹھے ہیں یارانِ سخن حیراں پریشاں سے
تمہاری جستجو میں ہی کوئی خامی رہی ہے سؔیف
حصولِ آرزو باہر نہیں تھا حدِ امکاں سے