غم یہ نہیں کہ جام کو گردش نہ دی گئی

غم یہ نہیں کہ جام کو گردش نہ دی گئی
غم ہے کہ ہم سے تشنہ لبی چھین لی گئی
کتنے نقاب ڈال کے نکلی تھی زندگی
لیکن پھر اپنی چال سے پہچان لی گئی
لہجہ وہی، زبان وہی بات بھی وہی
بس یہ ہُوا کہ بات سے شائستگی گئی
ہوں لاکھ تجربے مگر امید دیکھیے!
ہر سال، سالِ نو کی پزیرائی کی گئی
بچھڑے تو ہیں مگر اُسے تنہا نہیں کیا
اُس جانِ جاں کے ساتھ مری زندگی گئی
وہ تیری یاد تھی کہ لکیریں تھیں ریت پر
اک موجِ وقت جس کو مٹا کر چلی گئی
ضائع ہوا تھا دن تو تری یاد کے بغیر
لیٹے تو آنکھ لگ گئی، یوں رات بھی گئی
لے دے کے یوں حساب برابر کیا گیا
دنیا ملی تو دولتِ دل چھین لی گئی
منظر ہی کم نہ تھا، پسِ منظر بھی دیکھیے؟
میری بلا سے سؔیف جو دیدہ وری گئی