غؔالب کے نہ وہ مؔیر کے اشعار میں آئے

غؔالب کے نہ وہ مؔیر کے اشعار میں آئے
جو لطف ترے نام کی تکرار میں آئے
حالات کے مارے تھے وہ یوسف ہو کہ ہم ہوں
ہم لوگ خوشی سے کہاں بازار میں آئے
طوفان سے کچھ کم نہیں ہنگامے اِدھر کے
ساحل پہ سفینے یونہی بیکار میں آئے
سورج نے بڑا زعم کیا اپنی تپش پر
کچھ دیر جو ہم سایۂ دیوار میں آئے
باطن کی سیاہی کہ چھپائے نہیں چھپتی
ہرچند کوئی جبہ و دستار میں آئے
کچھ سے تو سرِراہ ملاقات ہوئی تھی
کچھ حادثے لپٹے ہوئے اخبار میں آئے
آشفتہ مزاجوں کا ٹھکانہ ہی نہیں سؔیف
صحرا سے چلے کوچۂ دلدار میں آئے