جن کو رسمِ سفر نہیں معلوم

جن کو رسمِ سفر نہیں معلوم
چھوڑتے کیوں ہیں گھر، نہیں معلوم
لَو سنبھالے رہو چراغوں کی
جانے کب ہو سحر، نہیں معلوم
منتظر ہیں تمام نظّارے
کب اٹھے گی نظر، نہیں معلوم
یوں تو سب راستوں سے واقف ہیں
اک تری رہ گزر نہیں معلوم
جھوٹ، سنتے ہیں خیریت سے ہے
سچ کی کوئی خبر نہیں معلوم
قافلہ ہے نہ قافلہ سالار
کیسے ہوگا سفر، نہیں معلوم
ایسی شب سے ہے واسطہ اب کے
جس کو اپنی سحر نہیں معلوم
پوچھتے کیوں ہو عشق کا انجام
کہہ دیا اُس نے گر "نہیں معلوم"
شعر گوئی میں کیا رکھا ہے سؔیف؟
بولے کچھ سوچ کر "نہیں معلوم"