بیاض عمر کے اوراق کچھ پرانے سے

بیاضِ عمر کے اوراق کچھ پرانے سے
الٹ رہی ہے نظر پھر کسی بہانے سے
ہم اپنے آپ پہ بھی اک نگاہ کرلیتے
ملا نہ وقت مگر انگلیاں اٹھانے سے
تمہارے ہاتھ میں پتھر دھرا ہی رہ جائے
میں باز آؤں اگر آئینے بنانے سے
ابھی ہوں محوِ تمنا، سو اک تجھی سے نہیں
میں زندگی سے بھی الجھا نہیں زمانے سے
نظر بچا کے بھی گزروں تو روک لیتی ہے
قریب رہتی ہے دنیا غریب خانے سے
تعلقات ہوں دل کے یا خون کے رشتے
نبھاتے جائیے، نبھتے ہیں یہ نبھانے سے
یہ علم و فضل کی باتیں یہ کارِ شعر و سخن
انہیں الگ ہی رکھو سؔیف آب و دانے سے