چھوڑ کر ہم ترے در کو جو کبھی جاتے ہیں

چھوڑ کر ہم ترے در کو جو کبھی جاتے ہیں
لڑکھڑاتے ہیں، سنبھلتے ہیں، پلٹ آتے ہیں
جانے کس لفظ کا مفہوم بدل دے دنیا
اب تو ہم بات بھی کرتے ہوئے گھبراتے ہیں
کیا ضروری ہے کہ پتھر سے ہی ٹوٹیں شیشے
ٹوٹ جاتے ہیں جو آپس میں بھی ٹکراتے ہیں
دلِ خوش فہم ہر آہٹ پہ پکار اٹھتا ہے
وہ چلے آتے ہیں، دیکھو! وہ چلے آتے ہیں
عشق میں بھی وہی محتاط طبیعت اپنی
ساتھ جینے کی نہ مرنے کی قسم کھاتے ہیں
شاعری نام ہے اس کارِ سخن کا جس میں
فکرِ عریاں کو قبا لفظ کی پہناتے ہیں
کچھ تو ہوتے ہیں بھلے اور کچھ اُن سے بھی بھلے
شعر وہ شعر ہیں جو دل میں اتر جاتے ہیں
قابل قدر ہیں مرکز سے جڑے ہیں جب تک
اشک آنکھوں سے نکلتے ہی بکھر جاتے ہیں
ٹوٹ کر بھی ہیں گراں اتنے کہ خود کو ہم سؔیف!
روز بازار میں رکھتے ہیں، اٹھا لاتے ہیں