کیوں فکرِ انتہا کریں آغازِ کار میں

کیوں فکرِ انتہا کریں آغازِ کار میں
بس میں ترے ہے یہ نہ مرے اختیار میں
جذبے ہوئے گراں تو توازن نہیں رہا
تیرے قرار اور مرے اعتبار میں
تاخیر ان کی شوق بڑھاتی تو ہے مگر
ہر بار ہو تو لطف کہاں انتظار میں
بوسیدہ بام و در ہیں مگر فکر ہے نہ خوف
رہتے ہیں ہم فقیر خودی کے حصار میں
منہ زور آندھیاں بھی پٹکتی ہیں سر یہاں
یہ سر پھری ہوا ہے بھلا کس شمار میں
سردی میں برف بیچیے، گرمی میں کمبلیں
پھر روئیے کہ نفع نہیں کاروبار میں
آ اے ہوائے تازہ گھٹن حد سے بڑھ گئی
بیٹھا ہے سارا شہر ترے انتظار میں