دھڑکنیں یونہی بڑھ گئیں تو نہیں

دھڑکنیں یونہی بڑھ گئیں تو نہیں
دیکھنا وہ یہیں کہیں تو نہیں
زلفِ جاناں سے خوابِ فردا تک
سب پریشاں ہیں اک ہمیں تو نہیں
آج تک انتظار ہے جن کا
ساعتیں وہ گزر گئیں تو نہیں
عقل کے فیصلے بدلتے ہیں
دل نے جب کہہ دیا 'نہیں' تو نہیں
لوگ کہتے ہیں وہ پشیماں ہے
مان لیتے ہیں، گو یقیں تو نہیں
جانے کیوں لوگ اس پہ مرتے ہیں
زندگی اتنی دلنشیں تو نہیں
انتظارِ طلوعِ صبح میں سؔیف
کچھ لَویں کم ہوئیں، بجھیں تو نہیں