زندگی آئے گی اجالوں میں

زندگی آئے گی اجالوں میں
روشنی چاہیے خیالوں میں
دُور سے درد کیسے سمجھو گے
آ کے بیٹھو خراب حالوں میں
خشک ہونٹوں کا یوں علاج ہوا
پیاس بانٹی گئی پیالوں میں
مؔیر کے شعر پڑھ رہا تھا کوئی
اور ہم کھو گئے خیالوں میں
ہاتھ سے پھر نکل گیا کمبخت
دل کو رکھا ہزار تالوں میں
ایسے ویسوں کو راہ ملتی ہے
تم جو آتے نہیں خیالوں میں
رات آئی ہے، اب کہاں ہیں وہ؟
ساتھ رہتے تھے جو اجالوں میں
خوش گمانی کی لاج رہ جاتی
دوست آتے نہ گر اجالوں میں
"آپ کیسے ہیں؟" "ٹھیک تو ہیں نا؟"
کیا رکھا ہے اب ان سوالوں میں
راس آنے لگی ہے تاریکی
جب سے لوٹے گئے اجالوں میں
آج کیجے ہماری ناقدری
کل ہمیں ڈھونڈیے حوالوں میں
یاد ان کی کوئی مذاق ہے سؔیف!
ٹیس اٹھتی ہے دل کے چھالوں میں