غلط ہے یہ کہ اے دنیا ہمیں جینا نہیں آتا

غلط ہے یہ کہ اے دنیا! ہمیں جینا نہیں آتا
مگر تُو جس طرح چاہے ہمیں ویسا نہیں آتا
ذرا دیکھو تو اُن ہمراہیوں کی بے بسی جن کا
بچھڑنا طے ہے لیکن کوئی دوراہا نہیں آتا
ہو کوئی بات پیچیدہ تو ہم سلجھائیں بھی لیکن
اگر آسان ہو تو بات سمجھانا نہیں آتا
یونہی سمٹے رہو اور خواہشِ آسودگی چھوڑو
اگر چادر سے باہر پاؤں پھیلانا نہیں آتا
ابھی بھی وقت ہے لوگو! جو کرسکتے ہو کر گزرو
گزرجاتا ہے جو اک بار وہ لمحہ نہیں آتا
کہاں تک ساتھ دیں اے وقت تیرا ہم شکستہ پا
تجھے رکنا نہیں آتا ہمیں چلنا نہیں آتا
مزاجِ سؔیف بھی ائے دوست اک ایسا معمّہ ہے
سمجھ میں آبھی جائے گر تو سمجھانا نہیں آتا